ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / امرتسر سے 50 ہزار کسان ’کنڈلی بارڈر‘ کی طرف گامزن، انتظامیہ پریشان

امرتسر سے 50 ہزار کسان ’کنڈلی بارڈر‘ کی طرف گامزن، انتظامیہ پریشان

Sat, 12 Dec 2020 11:08:35    S.O. News Service

نئی دہلی،12؍دسمبر(ایس او ایجنسی) زرعی قوانین کے خلاف دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کا احتجاجی مظاہرہ 16ویں دن بھی جاری ہے- ایک طرف حکومت متنازعہ قوانین واپس لینے کیلئے تیار نہیں ہے، اور دوسری طرف کسان بھی پیچھے ہٹنے کا نام نہیں لے رہے ہیں - کسان تنظیمیں اپنے مطالبات کو لے کر پرعزم ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کسانوں کی تحریک لگاتار تیز ہوتی جا رہی ہے- ملک کے مختلف حصوں سے کسان بڑی تعداد میں دہلی بارڈر کا رخ کر رہے ہیں - 14 دسمبر کو کسان ’دہلی کوچ‘ کریں گے جس کی وجہ سے آئندہ 2 سے 3 دنوں میں حکومت کیلئے مشکلات بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہیں -اس درمیان پنجاب کسان مزدور سنگھرش کمیٹی کا دوسرا گروپ پنجاب کے امرتسر سے کنڈلی بارڈر کیلئے روانہ ہو گیا ہے-

کسان مزدور سنگھرش کمیٹی کے جنرل سکریٹری نے بتایا کہ تقریباً 50 ہزار کسان-مزدور کنڈلی بارڈر کی طرف جائیں گے- امرتسر سے روانہ ہونے سے قبل کسان مزدور سنگھرش کمیٹی کے اراکین نے امرتسر کے گولڈن ٹیمپل میں پوجا کی-کسان لیڈروں کے ذریعہ آئندہ کی منصوبہ بندی کو لے کر لگاتار میٹنگیں چل رہی ہیں - آج دوپہر 2 بجے بھی کسان تنظیموں کی میٹنگ ہوئی جس میں آگے کی پالیسی پر غور کیا گیا- اس درمیان کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا کہ حکومت اور کسان دونوں کو پیچھے ہٹنا ہوگا، حکومت قانون واپس لے تو کسان اپنے گھر واپس چلے جائیں گے-ایک طرف کسان لیڈرس پورے جوش کے ساتھ اپنے مطالبات کو منوانے کیلئے مظاہرہ جاری رکھے ہوئے ہیں، اور دوسری طرف مودی حکومت کے رخ میں کوئی بدلاؤ دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے- وزیر اعظم نریندر مودی کسان تحریک پر ابھی تک سیدھے کچھ بھی بولنے سے بچتے رہے ہیں - حالانکہ اشاروں میں وہ نئے زرعی قوانین کی وکالت ضرور کر رہے ہیں -


Share: